زیبا کے اشعار

ہوا ہے عشق میں کم حسنِ اتفاق ایسا
کہ دل کو یار تو دل یار کو پسند ہوا

پہلے کیا تھا جو کیا کرتے تھے تعریف مری
اب ہوا کیا جو برا ہو گیا اچھا ہو کر

آپ کو کھو کے تم کو ڈھونڈھ لیا
حوصلہ تھا یہ میرے ہی دل کا

یہ بات بات پہ زاہد جو ٹوٹ جاتا ہے
دلِ حزیں بھی ہمارا ترا وضو کیا ہے

نہیں ہے فرصت یہیں کے جھگڑوں سے فکرِ عقبٰی کہاں کی واعظ
عذابِ دنیا ہے ہم کو کیا کم ثواب ہم لے کے کیا کریں گے

خدا کی بھی نہیں سنتے ہیں یہ بت
بھلا میں کیا ہوں مری التجا کیا

جسمِ انور کی لطافت کی ثنا کیا کیجے
جامۂ یار نہ اترا کبھی میلا ہو کر

کسی محبوب گندم گوں کی الفت میں گزرتے ہیں
دم اپنا جسم سے یا خلد سے آدم نکلتا ہے

زاہد مجھے نہ مانعِ شربِ شراب ہو
ایسا نہ ہو ثواب کے بدلے عذاب ہو

مجھے کیوں آج ہچکی آ رہی ہے
کوئی یاد آئی اور ان کو جفا کیا

ہنس کے پھولوں کو وہ کریں گے سبک
رنگ اڑائیں گے ہم عنادل کا

کیوں کر کروں میں ترکِ شراب و کباب کو
زاہد ہے یاد حکمِ کُلُوا وَاشْرَبُوا مجھے

بتانِ ہند مرے دل میں ہیں در آئے ہوئے
خدا کے گھر کو گھر اپنا ہیں یہ بنائے ہوئے

مزید صفحات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے