علامہ اقبال کا مضمون اور تقریر: طلبا کے لیے (اردو میں)

شاعرِ مشرق: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ ایک ایسے عظیم مفکر، فلسفی اور دور اندیش شاعر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے جنہوں نے اپنی فکر انگیز شاعری کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی۔ ایک ایسا نام جو آج بھی ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن اور ہماری آزادی کی پہچان ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم کی پیاس آپ کو یورپ لے گئی، جہاں آپ نے جرمنی سے پی ایچ ڈی (PhD) اور لندن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔

اقبال کا تصورِ خودی اور شاہین

علامہ اقبال کی شاعری کا سب سے مضبوط پہلو "تصورِ خودی” ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے اندر کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ انہوں نے فرمایا:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اس کے علاوہ، اقبال نے نوجوانوں کو ‘شاہین’ سے تشبیہ دی۔ شاہین وہ پرندہ ہے جو کبھی آشیانہ نہیں بناتا اور بلند پرواز کرتا ہے۔ اقبال بھی یہی چاہتے تھے کہ نوجوان سہل پسندی چھوڑ کر محنت اور جدوجہد کو اپنائیں۔

پاکستان کا خواب اور وفات

1930ء کے تاریخی خطبہ الہ آباد میں، اقبال وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ اور آزاد وطن کا نظریہ پیش کیا۔ اگرچہ آپ پاکستان بننے سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے، لیکن آپ کا یہ خواب قائداعظم کی قیادت میں حقیقت بن کر ابھرا۔ آپ کا مزار بادشاہی مسجد لاہور کے پہلو میں واقع ہے جو ہمیشہ ہمیں ہمارے عظیم ورثے کی یاد دلاتا ہے۔

مزید صفحات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے