زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ زکوٰۃ کے مصارف اور مکمل معلومات
زکوٰۃ کا مفہوم اور اہمیت (Zakat in Islam)
زکوٰۃ اسلام کا تیسرا اہم ستون ہے۔ اس کا لغوی معنی "پاک ہونا” یا "بڑھنا” ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے نہ صرف انسان کا مال پاک ہوتا ہے بلکہ یہ غریبوں اور ضرورت مندوں کا حق بھی ادا کرتی ہے، جس سے معاشرے میں معاشی مساوات (Economic Equality) پیدا ہوتی ہے۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ (نصاب)
ہر وہ مسلمان جو عاقل، بالغ اور صاحبِ نصاب ہو، اس پر سال میں ایک مرتبہ اپنے مال کا 2.5٪ (ढائی فیصد) زکوٰۃ دینا فرض ہے۔
- سونا: 7.5 تولہ سونا۔
- چاندی: 52.5 تولہ چاندی۔
- نقد رقم یا مالِ تجارت: جس کی مالیت 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔
اگر یہ مال ایک شخص کی ملکیت میں مکمل ایک سال تک رہے، تب زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوتی ہے۔
مصارفِ زکوٰۃ (زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟)
قرآن کریم کی سورۃ التوبہ (آیت 60) میں زکوٰۃ حاصل کرنے والے آٹھ مستحقین بیان کیے گئے ہیں:
- فقراء: وہ غریب جن کے پاس کچھ نہ ہو۔
- مساکین: محتاج جو اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں۔
- عاملین: جو اسلامی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ جمع کرنے پر مقرر ہوں۔
- مؤلفۃ القلوب: جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا ہو۔
- رقاب: غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے۔
- غارمین: جو لوگ قرضے میں ڈوبے ہوئے ہوں اور قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہوں۔
- فی سبیل اللہ: وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد یا دینی کاموں میں مصروف ہوں۔
- ابن السبیل: وہ مسافر جو دورانِ سفر ضرورت مند ہو جائے۔
